قلع و قمع

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - بیخ کنی، توڑ پھوڑ، اکھاڑ پچھاڑ، انہدام، مسمار کرنا۔ "اسلام فلاحی مملکت کا قائل ہے اس لیے سربراہ مملکت کی یہ دینی ذمہ داری ہے کہ وہ سماج دشمن عناصر کا قلع قمع کر دے۔"      ( ١٩٨٥ء، روشنی، ٩٨ )

اشتقاق

عربی زبان سے ماخوذ اسم 'قلع' کے ساتھ 'و' بطور حرف عطف لگانے کے بعد عربی زبان سے ہی اسم 'قمع' ملانے سے مرکب بنا۔ اردو میں بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٨٨٢ء میں "بوستان تہذیب" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - بیخ کنی، توڑ پھوڑ، اکھاڑ پچھاڑ، انہدام، مسمار کرنا۔ "اسلام فلاحی مملکت کا قائل ہے اس لیے سربراہ مملکت کی یہ دینی ذمہ داری ہے کہ وہ سماج دشمن عناصر کا قلع قمع کر دے۔"      ( ١٩٨٥ء، روشنی، ٩٨ )

جنس: مذکر